بنگلورو، 13؍جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے سال 21-2020 کے ایس ایس ایل سی امتحانات منعقد کرانے کے خلاف دائر کردہ مفاد عامہ عرضی ( پی آئی ایل ) مسترد کردی۔ اس طرح 19 اور22 جولائی کو امتحانات کرانے کی اجازت دے دی ہے۔
جسٹس بی بی ناگرتنا کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ عرضی گزار نے ریاستی حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے میں کوئی نقص ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مفاد عامہ عرضی بنگلورو کے ایس وی سنگرے گوڑا نے دائر کی تھی ۔ انہوں نے عرضی میں کہا تھا کہ تمام طلبا اور اساتذہ نے کووڈ ویکسین نہیں لیا ہے، اس لئے امتحان کرانا محفوظ نہیں رہےگا۔ عرضی گزار نے کہا کہ 9 لاکھ طلبا کووڈ۔19 انفیکشن کا سامنا کرسکتے ہیں۔ عدالت نے حکومت کی یہ دلیل قبول کر لی کہ طلبا اور والدین رائے لے کر ہی امتحان منعقد کیا جارہا ہے۔ یہ امتحان دو دن رکھا گیا ہے۔ ہر دن تین تین سبجکٹس کا مشترکہ سوالنامہ رہے گا۔ اس میں ایک ایک سبجکٹ کے لئے ایک گھنٹہ دیا گیا ہے۔ سوالنامہ Objectiveٹائپ سوالات کار ہے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ طلبا کو بورڈ امتحان میں شرکت کرنا فائدہ مندر رہے گا، صرف پاس کرادینا زیادہ فائدہ مند نہیں ۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ ساتویں جماعت سے نویں تک کے مارکس کی بنیاد پر ایس ایس ایل طلبا کو امتحان کے بغیر پاس کیا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف سرکاری وکیل پربھو لنگ ناودگی نے عدالت کو بتایا کہ امتحان نہ کرانے کا فیصلہ ماہرین کی رائے لے کر کیا گیا ہے۔ ایک ڈیسک میں ایک ہی طالب علم کو بٹھایا جائے گا۔ گزشتہ سال بھی امتحانات رکھے گئے تھے، اور اس وقت بھی ہائی کورٹ نے پی آئی ایل مسترد کی تھی۔ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 164 نافذ کی گئی ہے، پولیس کمشنر کمل پنتھ نے بتایا کہ امتحانی مرکز سے دو سو میٹر کے دائرے میں دفعہ 144 نافذ رہنے سے 4 سے زائد افراد جمع نہیں ہوسکتے ۔ مرکز کے قریب زیراکس دکانیں بند نہیں ہوں گے۔
امتحان کے اوقات صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک رہیں گے ۔ امتحانی مراکز میں طلبا کی جانچ کے لئے بی بی ایم پی ہیلتھ عملہ بھی رہے گا۔ 19 اور 22 جولائی کو دو دن امتحانات کرانے کے لئے کرناٹک ہائی کورٹ سے اجازت مل گئی ہے۔